9 ستمبر 2026 - 14:16
اسرائیلی عہدیدار کی برطانیہ کو دھمکی: یروشلم میں قونصل خانہ 30 روز میں بند کرو

اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی قونصل خانے کو مشرقی یروشلم میں اپنی سرگرمیاں ختم کرنے اور 30 روز کے اندر قونصل خانہ بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایک صہیونی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی قونصل خانے کو مشرقی یروشلم میں اپنی سرگرمیاں ختم کرنے اور 30 روز کے اندر قونصل خانہ بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے مغربی کنارے میں قائم صہیونی بستیوں سے منسلک بعض اشیا پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد دو ریاستی حل کے امکانات کو برقرار رکھنا ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر صہیونی حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے لندن کے اقدام کو ’’سنگین غلط اندازہ‘‘ قرار دیتے ہوئے برطانیہ پر آئندہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا۔

دوسری جانب صہیونی وزیرِ داخلی سلامتی ایتامار بن گویر بھی برطانیہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی برطانوی حکومت پر یہودیوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا۔

برطانوی پابندیوں اور اسرائیلی جوابی اقدامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کی مبینہ ہدایت نے اس سفارتی تنازعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اب سب کی نظریں لندن کے ردعمل پر ہیں کہ آیا برطانیہ اسرائیلی دباؤ کے سامنے اپنا مؤقف تبدیل کرتا ہے یا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ آرائی مزید بڑھتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha